آفس بند ہونے کا وقت ہوچکا تھا، سیٹھ صاحب اٹھنے ہی والے تھے کہ دفتر کے ایک ملازم نے آکر بتایا کہ کوئی بابا جی آپ سے ملنے آئے ہیں۔ سیٹھ صاحب نے کہا: ’’ٹھیک ہے بٹھادو!‘‘ مگر ان کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ ملنا نہیں چاہتے۔ ملاز م نے بابا جی کو لاؤنج میں بٹھایا، اس وقت چونکہ اس کے پاس فرصت تھی تو باباجی کے ساتھ بیٹھ کرحال احوال پوچھنا شروع کیا اورباتوں باتوں میں پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ باباجی نے کہا: میں آپ کے سیٹھ صاحب کے گاؤں سے آیا ہوں، میں وہاں کا ڈاکیا ہوں۔ ’’تو پھر کیا کوئی خط لے کر آئے ہو؟‘‘ ملاز م نے پوچھا: ’’نہیں بیٹا! میں بڑی مشکل میں ہوں۔ دراصل ہم پر کسی نے جھوٹا پرچا کروایا ہے۔ پولیس نے میرے بیٹے کو گرفتار کرلیا ہے۔ رمضان کا مہینہ ہے، چند دِنوں بعد عید آنے والی ہے۔ عید کے دن بھی اگر وہ جیل میں رہا تو ہماری تو پریشانی کی انتہاء نہیں ہوگی۔ بس اس واسطے آپ کے سیٹھ صاحب سے کچھ مدد لینے آیا ہوں۔‘‘ اتنے میں آفس کی گھنٹی بجی، ملازم اندر چلا گیا تو سیٹھ صاحب نے باہر آئے ہوئے بابا جی کے متعلق پوچھا۔ ملاز م نے تفصیل بتادی تو سیٹھ صاحب نے ان کو کسی طرح رخصت کرنے کا کہا اور آفس سے نکل گئے۔ ملازم بے چارہ کیا کرتا، اس نے بابا جی کو بتا دیا کہ سیٹھ صاحب کسی ضروری کام سے کہیں چلے گئے۔ یہ سن کر بابا جی کے چہرے پر شدید اداسی چھاگئی۔ وہ بولے: ’’بیٹا ! میں تو روزے کی حالت میں بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچاہوں، اور پھر۔۔۔ ان کاسر جھکتا چلا گیا۔‘‘ ملازم نے بابا جی کی حالت دیکھی تو وہ بھی رنجید ہ ہوا، اور تو کچھ کر نہیں سکتا تھا، انہیں اپنے ساتھ لیا اور افطاری کرانے اپنے ایک کمرے پر مشتمل گھر لے آئے ۔
گھر میں جیسے ہی داخل ہوئے تو بچے دوڑ کر آئے اور اپنے والد سے لپٹ گئے۔ والد نے کہا: بیٹا آپ کے دادا جی آئے ہیں، ان سے ملیں ! بچے اسی جوش و خروش سے بابا جی سے ملنے لگے۔ وہ افطاری کا انتظام کرنے کچن کی طرف گیا اور جب باہر آکر دیکھا تو بابا جی ننگے فرش پر بیٹھے تھے، ان کی آنکھوں سے آنسو کی لڑیاں جاری تھیں اور ان کے لبوں سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی ’’میرے مالک! اس شخص کو نوازدے !‘‘
شاید قبولیت کی گھڑی تھی اور رب نے بھی دِل سے نکلی دعا سن لی ۔ پھر زمانے نے دیکھا کہ 1500روپے تنخواہ پر کام کرنے والا ملازم، اپنے وقت کا ارب پتی بن گیا ۔وہ شخصیت’’ پنجاب گھی کے ڈسٹری بیوٹر ملک خالد یعقوب صاحب ہیں۔ ان کے بقول، وہ وقت دعا لینے کا تھا، میرے باس نے نہیں لی، میں نے لے لی اور آج اللہ نے مجھے بے تحاشا نوازدیا ہے۔
کسی دانا شخص نے کیا خوب کہا ہے کہ دعا کی نہیں جاتی بلکہ لی جاتی ہے۔ دراصل خوش قسمت انسان بھی وہی ہے جو دوسرے لوگوں سے دعا نکلو الیتا ہے۔ عموما ً یہ دیکھا گیا ہے کہ ہم دوسروں سے کام تو اچھی طرح کرواتے ہیں لیکن دعا نہیں کرواسکتے۔ دعا کروانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کام کروانے کے ساتھ ساتھ اس کی ضروریات اور تمام تقاضوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ جو بھی انسان اپنے ملازمین اور کام کرنے والے لوگوں کی ضروریات بروقت پوری کرتا ہے اور انہیں کسی کا محتاج نہیں بننے دیتا تو نہ صرف وہ صلہ رحمی کا ثواب کما رہا ہوتا ہے بلکہ اس کے ملازمین بھی اس کو جھولی بھر کر دعائیں دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر فائدہ اس کو یہ ملتا ہے کہ تمام لوگ اس کے ساتھ وفادار ہوتے ہیں ، کوئی بھی ملازم اس کی جان یا مال کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ سب صرف پیسے سے نہیں ہوسکتا ، اس کے لیے ایک بڑا دِل چاہیے دوسروں کے لیے وقت نکالنا اور بے لوث خدمت رہنمائی کرنا بنا کسی غرض سے یہ اللہ ہر کسی کو توفیق نھین دیتا اپنے لیے تو سب کرتے ہیں دوسروں کے لیے کرنا بڑا مشکل ہے۔ جو بھی انسان بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دِل بڑا کردیتا ہے پھر اس کے لیے دوسرے لوگوں کے ہاتھ خود بہ خود ’’دستِ دعا‘‘ بن جاتے ہیں۔
رمضان کا رحمتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے ۔یہ مہینہ ہمیں جہاں صبر کا در س دیتا ہے وہیں ’’احساس‘‘ کا سبق بھی دیتا ہے۔احساس پیدا کیجیے ! اپنے اِردگرد رہنے والے لوگوں کے لیے آسانیاں پید اکیجیے اور اس بات کا عزم کیجیے کہ اس بار آپ نے دوسرے لوگوں سے دُعائیں ضرور لینی ہیں ۔یقین کیجیے !خلوصِ دِل سے نکلے ہوئے آنسوئوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ آپ کی تقدیر پلٹ سکتے ہیں۔
Qasim Ali Shah



0 Comments