اسلام آباد (امانیٹرنگ ڈیسک۔27 اپریل 2020) سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر عہدے سے ہٹایا گیا، فردوس عاشق نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے میں فائدے لے کربدعنوانی کی ، حکومتی اشتہارات کے بجٹ سے 10فیصد کمیشن لینے کی بھی کوشش کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق سابق معاون خصوصی برائے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹانے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
جس کے تحت فردوس عاشق اعوان نے حکومتی اشتہارات کے بجٹ سے 10 فیصد کمیشن لینے کی کوشش کی۔سابق معاون خصوصی نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم رکھے۔ فردوس عاشق اعوان نے سرکاری ٹی وی ، پی ٹی وی کے کوٹے سے دو سکیورٹی گارڈ سمیت 9 ملازم رکھے ہوئے تھے۔اسی طرح صفائی کرنے والا اورمالی بھی پی ٹی وی کے کوٹے سے رکھے ہوئے تھے۔
فردوس عاشق نے 3 گاڑیاں استعمال میں رکھیں، جن کو ان کو اجازت نہیں تھی۔
فردوس عاشق کی تمام رپورٹ وزیراعظم کو دی گئی جس پر ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں پھر سے اکھاڑ پچھاڑ کردی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ ان کی جگہ سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔
دونوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹانے پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک سچے اور باوقار شخص شبلی فراز کو وزیراطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح باصلاحیت آدمی عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں افراد مل کر اپنی اچھی ٹیم بنائیں گے۔
واضح رہے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان حکومتی بیانیے کو اس طرح سے بیان نہیں کرتھیں جس سے اپوزیشن جماعتیں بھی خوش نہیں تھیں۔ بلکہ جہاں حکومت اپوزیشن کے ساتھ کچھ معاملات کو سیدھا کرتی تھیں، وہاں کچھ دیر بعد فردوس عاشق اعوان ان معاملات کو پھر سے الجھا دیتی تھیں۔ جس کا نتیجہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی صورت نکلتا۔ اسی طرح فردوس عاشق اعوان میڈیا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بحال کرنے میں ناکام رہیں۔
تحریک انصاف کے اندر بھی لوگ فردوس عاشق کیلئے کوئی اچھا بیانیہ نہیں رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی ارکان ان کو دوسری جماعت کی کھلاڑی اور کارکردگی کے لحاظ سے نااہل سمجھتے تھے۔ جنوری اور فروری میں ہی فردوس عاشق اعوان کے جانے کی اطلاعات تھیں کورونا وائرس کے باعث ان کو رخصتی میں تھوڑا وقت مل گیا تھا۔ لیکن کورونا کی صورتحال میں بھی فردوس عاشق اعوان خود کو منوانے میں ناکام نظر آئیں۔
Dr Fidous Ashique Awan